تخصص فیکلٹی
(1) حکیم الاسلام حضرت مولانا محمود الحسینی
جامعہ فاروقیہ کراچی سے فارغ التحصیل ، جامعۃ العلوم العثمانیہ کراچی کے مہتمم و صدر مدرس ہیں۔ فکرِ اسلامی کے جید عالم اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ اسلام کی روشن فکر تعلیمات اور دعوت کے بڑے مبلغ اور اسلامی فکر کے لیے عملی طور پر سرگرمِ عمل ہیں۔ برصغیر میں حضرت شاہ ولی اللہ کے پیدا کردہ جماعت جو دعوتِ دین جو تعلیم، دعوت، جہاد کے لیے ہمیشہ سرگرمِ عمل رہی ہے، اسی قافلہ کے رُکنِ رکین ہیں۔ ان کی لائبریری اسلامی روشن فکری کے کتابوں سے مزین ، خاص طور پر عصری کتابوں کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔ کئی سالوں سے تعلیم کے ساتھ جامعۃ العلوم العثمانیہ کی جامع مسجد میں خطابت کے فرائض سرانجام دیتے آئے ہیں۔
(2) حکیم الاسلام مولانا محمد انس راجپر
سندھ کے روشن فکر علماء میں ان کا ممتاز مقام ہے اس وقت سندھ یونیورسٹی جام شورو میں تقابل ادیان کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ وہ حضرت مولانا غلام مصطفی قاسمی کے ان خاص شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں جو امام شاہ ولی اللہ اور امام انقلاب مولانا عبید اللہ سندھی کی تعلیمات اور افکار سے وابستہ ہیں۔ اپنی ساری زندگی اسی فکر سے وابستہ تحریری و تدریسی کاموں میں مشغول رکھی ہے۔ انہوں نے کئی کتابیں لکھی اور ترجمہ کی ہیں۔
(3) پروفیسر رٹائرڈ جسٹس شہزادو شیخ
انگریزی میں قانون ، شرعی قانون، حکمت قرآن پر کئی کتابوں کے مصنف پروفیسر رٹائرڈ جسٹس شہزادو شیخ حکومت پاکستان کی وفاقی شرعیہ کورٹ کے جج رہ چکے ہیں۔ اس وقت اسلامک لا، یونیورسٹی آف ہوسٹن لا سینٹر امریکا کے پروفیسر ہیں۔ پاکستان میں سول بیوروکریسی کے ایک متحرک اور مدبر افسر کے طور پر بڑا نام کمایا۔ بین الاقوامی یونیورسٹیوں سے تربیت اور ڈولپمینٹ کے ٹریننگ کے ساتھ قانون اور شرعی قانون کے میں اعلیٰ تعلیم کے بعد وفاقی شرعی کورٹ حکومت پاکستان کے رجسٹرار مقرر ہوئے۔ بعد میں اسی کورٹ کے جسٹس بنے۔ قرآن حکیم کے علوم پر عالمانہ اور مدبرانہ دسترس ہے اور علوم قرآن پر اُن کی تحقیق جدید علوم کی روشنی میں عالم اسلام میں قابل قدر حیثیت رکھتی ہے اور امیزون کےذریعے ان کی کتابیں پوری دنیا میں شہرت پاچکی ہیں۔
(4) ابوالفضل نور احمد
ابوالفضل نور احمد یونیورسٹی آف کراچی سے پوسٹ گریجوئیٹ ہیں۔ ضروری دینی تعلیم کے بعد علم جدید کی روشنی میں قرآن حکیم ان کے تعلم اور تحقیق کا محور رہا ہے۔ کئی دعوتی کتابوں کے مصنف ہیں بشمول خواتین اسلامی انسائیکلوپیڈیا جس کے ذریعہ ملک کے تعلیم یافتہ افراد اور مسلم خاندانوں کی ایک بڑی تعداد نے اسلامی فکر سے وابستگی حاصل کی ہے۔اسلامی روشن فکری کی دعوت کے سرگرم رُکن شمار ہوتے ہیں۔ 2008ء میں انہوں نے قرآن حکیم کی اعلیٰ تعلیم کے لیے علماء کی روشن خیال ٹیم کے تعاون سے حکمت قرآن انسٹیٹیوٹ قائم کیا جس کی طرف سے قرآن حکیم کے الاہیاتی اور سماجی شعور پر مشتمل تین فاصلاتی کورسز کا آغاز کیا۔ اِس وقت حکمت قرآن انسٹیٹیوٹ کے طرف سے تخصص حکمت قرآن کی کلاسز بھی شروع کردی گئی ہیں۔



