تدبر قرآن کورس: دورانیہ ایک سال
(۱) قرآن کا مطالعہ کیسے کیا جائے؟
امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ
اس کتاب میں صحیح تعلیمات قرآنی سے محرومی کے نتائج کے ساتھ اس کی تعلیم کا وہ صحیح طریقہ بتایا گیا ہے، جو قرآن کے پہلے مخاطبین صحابہ کی جماعت نے اختیار کیا اور اس طرح دعوت اور اشاعتِ اسلام کے مقاصد حاصل کئے۔ مزید برآں چند اصطلاحات قرآنی کی مثالوں سے روح قرآن تک پہنچنے کی رہنمائی کی گئی ہے اور قرآنی تعلیم کو کمزور کرنے کی منظم سازشوں کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ اس کتاب کے مطالعہ سے قرآن حکیم کی حکمت و دعوت سے استفادہ کرنے کا سلیقہ پیدا ہوجاتا ہے۔
(۲) ام الکتاب
امام الہند مولانا ابوالکلام آزادؒ
یہ کتاب مولانا آزادؒ کی تفسیر ترجمان القرآن کی سورۃ فاتحہ پر مشتمل پہلی جلد ہے۔ قرآن کی عملی الاہیات، اللہ تعالیٰ کی ربوبیت، رحمت اور عدل کی صفات و نظام کا عالمانہ استدلال بیان کیا گیا ہے۔ امام شاہ ولی اللہ کی حجۃ اللہ البالغہ کے بعد مولانا آزادؒ کی یہی تفسیر بر صغیر میں قرآن حکیم کی الاہیات جدید اور روشن فکری کی بنیاد بنی ہے۔ قرآن حکیم کی حکمت، فلسفۂ مذاہب اور قرآن کا مطلوب دین اسلام و عملی انسان اس کتاب کے اہم موضوعات ہیں۔
(۳) مجموعۂ تفاسیر امام سندھیؒ
امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ
حجۃ الاسلام حضرت امام شاہ ولی الہ کی دینی فکر کے شارح اعظم حکیم الاسلام امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ کی قرآن فہمی دنیائے اسلام میں ممتاز مقام رکھتی ہے۔ یہ کتاب قرآن حکیم کی متفرقہ سورتوں کا تفسیری مجموعۂ ہے جس میں حکمت و دعوت قرآن، رموز غلبۂ اسلام اور دین اسلام کے سیاسی و معاشی اصولوں کو قرآن حکیم کی روشنی میں جامع تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ قرآن کے اس تفسیر کے استفادے سے علمی و عملی طور پر ایک نیا حکیم انسان جنم لیتا ہے اور وہ حقیقی طور پر حکیم الاسلام کا رتبہ پالیتا ہے۔
(۴) قرآنی افادات
قرآن حکیم کی دعوت اور حکمت پر امام الہندمولانا ابوالکلام آزادؒ کی تحریروں کا مجموعہ جس میں دین کا قرآنی تصور، توحید، مقامِ انسانیت، صفاتِ الٰہی، امر بالمعروف و نہی عن المنکر، جماعتی زندگی، نظریۂ جہاد، اسوۂ انبیاء، الدین و السیاست، عقیدۂ آخرت اور دیگر موضوعات پر سیر حاصل تحریریں شامل ہیں۔ مولانا ابوالکلام آزادؒ نے ماضی کے یونانی فلسفیوں سے متاثر علم الکلام کے بجائے قرآن حکیم کی ہدایت اور اس کے بتائے ہوئے استخراجی طریقے پر جدید علم الکلام کی بنیاد رکھی جس میں انہوں نے معرفت الٰہی اور توحید ربانی کے عملی منہاج مسلمانوں کے سامنے رکھے۔ اس کتاب میں ان قرآنی افادات کو مرتب کیا گیا ہے جو انہوں نے اپنے رسائل لسان صدق، البلاغ اور الہلال میں لکھے۔



