حکمت قرآن انسٹیٹیوٹ

تعارف

اصطلاحات قرآن، قوانینِ قرآن،معاشیاتِ قرآن اور اخلاقیاتِ قرآن ،قرآن کےعملی الاہیاتی اور سماجی شعور اور حکمت کی اعلیٰ تعلیم کیلئے حکمت قرآن انسٹیٹیوٹ قائم کیا گیا ہے تاکہ مسلمانوں کی موجودہ سماجی ابتری کی صورتحال میں ان کی عصری عملی رہنمائی ہو سکے۔ حکمت قرآن کے موضوع پر ہائر ایجوکیشن/تخصص کا یہ پہلا ادارہ ہے، جہاں مدارس کے فارغ التحصیل علماء اور دیگر شعبوں کے گریجوئیٹس کو قرآن مجید کی حکیمانہ تعلیمات کے ایک جامع کورس کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو اس ادارہ سے استفادہ کیلئے تین مزید کورس فاصلاتی ذرائع سے کرائے جارہے ہیں۔

        حکمت قرآن انسٹیٹیوٹ کا مقصد ہے کہ، انسانیت کیلئے اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی آخری ہدایت اور رہنمائی کی سرچشمہ کتاب قرآن حکیم کی تعلیمات اور اس کی علمی و عملی حکمت سے عہد حاضر کے انسانوں کو مؤثر طریقہ سے بہرہ ور کیا جائے ۔ اسی طرح یہاں سے ایسے حکیم و مدبر علماء اور مثالی افرادتیار کیے جائیں، جو عہد حاضر کے انسانی مسائل کو سمجھنے کا پختہ شعور اور عمل کی لگن رکھتے ہوں۔ اسی طرح سماج کیلئے ایسے پختہ اور باشعور مسلمان پیدا ہوں جو اپنے شعبوں خواہ اسلامی نسبت سے ایک مثالی حوالہ بنیں۔ کیونکہ ایسے ہی حکیم و مدبر علماء اور مثالی افراد سماج میں تبدیلی کے اہم کام سرانجام دے سکتے ہیں۔

        قرآن حکیم میں تعلیم دی گئی ہے کہ دین اسلام،ایمان، جہداور دعوت کے عملی ، تعلیمی اور تربیتی طریقوں سے دنیا بھر کے ادیان و افکار پر غلبہ حاصل کرے گا۔ قرآن کا وعدہ حق ہے، ضرورت فقط پختہ شعور اور عمل کی ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ اور انکی تیارکردہ جماعت ایک دور میں تعلیم، تربیت اور حکمت کے ذریعہ انسانوں کی رہبری اور اصلاح معاشرہ کیلئے ان کامرانیوں سے سرفراز ہوئی۔ ہم چاہتے ہیں کہ قرآن کے اس نور اور حرارت سے عہد حاضر کے لوگوں کو بہرہ ور کریں۔

        حکمت قرآن انسٹیٹیوٹ کے توسط سے کرہ ارض پر موجودہ علما اور عوام کو قرآن حکیم کی حکمت سے بہرہ ور کر کے مختلف ابلاغی ذرائع سے گھر بیٹھے یہ سہولت میسر کی جا رہی ہے۔ اسی طریقے کے تحت مطلوبہ سیلبس کی کتب، انسٹیٹیوٹ کی طرف سے داخلہ لینے والوں کو ویب سائیٹ پر مہیا کی جا رہی ہیں اور پاکستان میں مرحلہ وار پوسٹ کے ذریعہ بھیجی جارہی ہیں۔ اسکے ساتھ ان کتب سے استفادہ کیلئے رہنما طریقہ ء کار پر مشتمل مواد بھیجا جا رہا ہے۔ سیلبس کے امتحانی پرچے بھی وقتاًفوقتاً بھیجے جا تے ہیں اور شاگرد وہ پرچے حل کرکے انسٹیٹیوٹ کو ارسال کرتے ہیں ۔

        حکمت قرآن انسٹیٹیوٹ کی طرف سے ایسی تعلیمی کوششوں کے نتیجے میں مختلف اداروں سے وابستہ افراد کو حکمت کی روشنی میں ایک اعلیٰ نصب العین حاصل ہو جائے گا۔ پھر وہی لوگ قرآن کے کامل عملی الاہیاتی و سماجی شعور سے جہاں ایک طرف سماج کیلئے اپنی ذمیدارانہ کردار کی ادائیگی سے حسنۃ فی الدنیا کی نعمتوں سے بہرہ ور ہونگے وہاں حسنۃ فی الآخرۃ کی سعادت و کامرانیاں بھی ان کا مقدر بن جائیں گی، جن کا وعدہ اس دنیا کی مثالی عملی زندگی کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں سے کردیا ہے۔

        آپ خود دینی علوم کے فارغ التحصیل عالم ہیں یا عصری علوم سے فارغ اسکالر، ڈاکٹر، انجنیئر، استاذ، یا زندگی کے کسی بھی شعبہ میں سرگرم عمل ہیں،ابھی کسی تعلیمی ادارے میں زیر تعلیم ہیں یا دینی تعلیمی سفر میں ہیں۔ اگر آپ زندگی کو ایک نصب العین اور مقصد عطا کرکے قرآن و سنت کی روشنی میں انقلاب ، تبدیلی اور بیداری کے خواہشمند ہیں تو پھر حکمت و دعوت قرآن کے اس مشن  میں شریک ہوجائیے۔

تحقیق و تدبر

۱۔  مقاصدِ وحی اور قرآن کے الاہیاتی اور سماجی شعور کو اجاگر کرنے کے لئے دانشوروں اور اسکالرز کو تحقیق، تعلیم اور تربیت کا ماحول اور مواقع مہیاکرنا۔

۲۔ علوم القرآن کی محقق کتابیں اور ترجمۃ القرآن کے عصری ایڈیشن شایع کرنا۔ اسلام کے اوریجنل تصورات کے فوائد سے انسانیت کو بہرہ ور کرنے کے لئے اداروں اور افراد کی رابطہ کاری سے مربوط دعوت کا نظام عمل میں لانا۔

۳۔ کْرہ ارض پرمثالی افراد کے ذریعے  مثالی معاشرے کے قیام کی عملی صورتیں واضح کرکے امت تک پہنچانا۔

تعلیم و تربیت

۱۔ قرآن کی حکمت، قوانین،معاشیات، اخلاقیات اور دعوت کوبذریعہ تحقیق، تعلیم و تربیت منظم صورت میں پھیلانا۔

۲۔ اسلامی فکر کی حقیقی انسان دوست اقدار کی روح اور تاثیر سے انسانیت کو بہرہ ور کرنا۔

۳۔ سماج میں تبدیلی کے لئے مثالی افراد تیار کرنا اور قرآن و سنت کی رہنمائی سے جہد اور قربانی کے اقدار کی آبیاری کرنا۔

ابلاغ و تبلیغ

۱۔ قرآن مجید کی اپلائیڈ ایجوکیشن سے نوجوانوں کو واقف کرنا اور  الاہیاتی اورسماجی شعور کو اشاعت اور ابلاغ کے ذریعے پھیلانا۔

۲۔قرآن حکیم کے اہم موضوعات پرکتابیں شایع کرنا اور دین اسلام کے اصل تصورات کی اشاعت اور ابلاغ کے لئے اداروں اور افراد کے درمیاں رابطہ کاری کرنا۔

۳۔ عصرِ حاضر کے علمی اور تربیتی تقاضوں کے مطابق حکمت قرآ ن کے اداروں کا نیٹ ورک قائم کرنا۔

۱۔ قرآن مجید کے تراجم پڑھانے کیلئے وسیع پیمانے پرجہدو سعی۔

 (الف)  قرآن کے تراجم کی اشاعت کرکے سندھ کے مضافات اور شہروں ، مختلف اداروں اور تنظیموں کے افراد تک پہنچائے جاتے ہیں۔

 ( ب ) اداروں اور تنظیموں کے تعاون سے ملک کے مختلف حصوں میں وہاں کے مقامی لوگوں کے لئے درس حکمت قرآن کی کلاسیں چلائی جاتی ہیں۔

 (ج ) تعلیم تدریس اور درس حکمت قرآن کے لئے مختلف ابلاغی طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔

۲۔ مختلف شعبوں سے وابستہ افراد اور طلباء کیلئے حکمت قرآن کی تعلیم کے تین فاصلاتی کورس اور مختلف ورکشاپ تربیتی کورسز کرائے جاتے ہیں۔

۳۔ حکمت قرآن کے موضوع پر ایک وسیع لائبریری اور انٹرنیٹ سے استفادہ کرنے کی سہولت موجود ہے۔

۴۔ حکمت قرآن اور قرآن کے الاہیاتی اور سماجی شعور کے حوالے سے سیمینار اور سمپوزیم کرائے جاتے ہیں اور وہاں پیش کردہ مقالوں کی اشاعت کی جاتی ہے۔

۵۔ حکمت قرآن اور قرآن کے الاہیاتی اور سماجی شعور پر تفاسیر اور کتب کی وسیع اشاعت کی جاتی ہے۔

۶۔حکمت قرآن انسٹیٹیوٹ کے طلباء کی تربیت اور تزکیے سے انہیں حکیم الاسلام اور مثالی انسان بنانے پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔

۷۔ حکمت قرآن انسٹیٹیوٹ سے قرآن کی تعلیمات کے داعی پیدا کرکے ان میں سماج سدھار اور دعوت کا اہم کردار ادا کرنے کا جذبہ موجزن کیا جاتا ہے۔

۸۔ دعوت قرآن کے حوالے سے وسیع اشاعتی سرگرمیاں عمل میں لائی جاتی ہیں۔

۹۔ فارغ التحصیل علماء کیلئے حکمت قرآن کی اعلیٰ تعلیم کا کورس’’ تخصص حکمت قرآن‘‘ پڑھایا جاتا ہے، جس میں قرآن کی حکمت، قوانین، اصطلاحات، اخلاقیات، معاشیات اور قرآن کی دعوت میں بذریعہ اسپیشلائیزیشن حکیم اور مدبر عالم تیار کئے جاتے ہیں۔

۱۰۔ ’’تخصص حکمت قرآن‘‘ کے طلباء کو تحقیق، تحریر اور دعوت کے مقاصد کے لئے مکمل تربیت دی جاتی ہے، جس سے وہ اسلامی فکر کے لئے حقیقی سرمایہ ثابت ہو سکیں۔

ابوالفضل نور احمد

اس انسٹیٹیوٹ کے بانی ابوالفضل نور احمد ہیں۔ وہ طالب علمی سے ہی اسلامی دعوت کےایک فعال داعی رہے ہیں۔ اور شاہ ولی اللہؒ کی تعلیمات اور مولانا عبید اللہ سندھی کے سیاسی اور قرآنی افکار سے نسبت رکھتے ہیں۔ 1991ء میں انہوں نے سندھیکا اکیڈمی قائم کی ۔سندھی زباں کے ادب ،تحقیق، علمی اور شعوری ترقی کے شعبوں میں خدمات انجام دیں۔ سندھیکا اکیڈمی کی طرف سے تعلیمی اور علمی موضوعات پر سیکڑوں کتابیں شائع کرنے کے علاوہ ، انہوں نے قرآن مجید کے ہزاروں ترجمے اور تفسیر اور اسلامی فکر پر مشتمل کتابیں شائع کیں۔ کتابوں کے اشاعت کے ساتھ سندھ بھر میں اس کی قابل ذکر ترویج بھی کی۔ وہ کئی دعوتی کتابوں کے مصنف ہیں بشمول خواتین اسلامی انسائیکلوپیڈیا جس کے ذریعہ ملک کے تعلیم یافتہ افراد اور مسلم خاندانوں کی ایک بڑی تعداد نے اسلامی فکر سے وابستگی حاصل کی ہے۔ 2008ء میں انہوں نے قرآن حکیم کی اعلیٰ تعلیم کے لیے علماء کی روشن خیال ٹیم کے تعاون سے حکمت قرآن انسٹیٹیوٹ قائم کیا جس کی طرف سے قرآن حکیم کے الاہیاتی اور سماجی شعور پر مشتمل تین فاصلاتی کورسز کا آغاز کیا۔ اِس وقت حکمت قرآن انسٹیٹیوٹ کے طرف سے تخصص حکمت قرآن کی کلاسز بھی شروع کردی گئی ہیں۔

حکیم الاسلام مفسرِ قرآن حضرت مولانا مفتی عبدالوہاب چاچڑ

پاکستان کے ایک ممتاز مفتی، مفسرِ قرآن، شیخ الحدیث اور محقق، ماہانہ “شریعت” رسالہ کے ایڈیٹر ہیں۔ جو سندھی زبان میں قرآن و حدیث کی تعلیم اور اسلام کی روشن خیالی کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے سندھ کے علماء میں مفتی اعظم کا ممتاز مقام حاصل کیا ہے۔ پورے سندھ میں علماء اسے فتویٰ پر بڑی سند تسلیم کرتے ہیں۔ قرآن حکیم کی تفسیر”سہل البیان” ان کا بڑا علمی کارنامہ ہے جو تین جلدوں پر مشتمل ہے۔ روہڑی میں ، وہ جامعہ دارالعلوم الشرعیہ کے بانی سربراہ اور شیخ الحدیث ہیں ، جہاں وہ درس نظامی کے شاگردوں کو قرآن اور حدیث پڑھاتے ہیں اور اس طرح انہیں سند الفراغ کی ڈگری دی جاتی ہے۔

علامہ عبدالمومن میمن

جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے فارغ التحصیل علامہ عبدالمومن ہنگورجہ ضلع خیرپورمیرس سے تعلق رکھتے ہیں۔ سندھ کی مشہور علمی شخصیت شیخ القرآن حضرت مولانا دُر محمد میمن کے صاحبزادے ہیں۔ اپنے والد صاحب سے علمی اختصاص کے بعد دورہ حدیث جامعۃ العلوم الاسلامیہ سے کیا۔ سندھی اور اردوں زباں کی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ سندھی زبان میں قرآن حکیم کا بے حد سلیس اوربامحاورہ اعلیٰ درجہ کا ترجمہ کر چکے ہیں۔

حکیم الاسلام پروفیسر مولانا محمد انس راجپر

سندھ کے روشن فکر علماء میں ان کا ممتاز مقام ہے اس وقت سندھ یونیورسٹی جام شورو میں تقابل ادیان کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ وہ حضرت مولانا غلام مصطفی قاسمی کے ان خاص شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں جو امام شاہ ولی اللہ اور امام انقلاب مولانا عبید اللہ سندھی کی تعلیمات اور افکار سے وابستہ ہیں۔ اپنی ساری زندگی اسی فکر سے وابستہ تحریری و تدریسی کاموں میں مشغول رکھی ہے۔ انہوں نے کئی کتابیں لکھی اور ترجمہ کی ہیں۔

حکیم الاسلام مفتی محمد صادق سومرو

سندھ کے جید عالم جو اپنی ساری زندگی توحید کی دعوت و تبلیغ کے لیے سرگرم رہے۔ سندھ کے ہزاروں لوگ خاص طور پر پڑھے لکھے اور نوجوان اس کی محنت اور صحبت سے اسلامی فکر سے منسلک ہیں۔ سندھ میں ان کے علمی شاگردوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ اس وقت ،سٹیزن کالونی ، حیدرآباد میں اسلامی فکر کی دعوت کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مولانا محمود الحسینی

تصویری جھلکیاں