انتظامیہ

بانی/ڈائریکٹر

ابوالفضل نور احمد

اس انسٹیٹیوٹ کے بانی ابوالفضل نور احمد ہیں۔ وہ طالب علمی سے ہی اسلامی دعوت کےایک فعال داعی رہے ہیں۔ اور شاہ ولی اللہؒ کی تعلیمات اور مولانا عبید اللہ سندھی کے سیاسی اور قرآنی افکار سے نسبت رکھتے ہیں۔ 1991ء میں انہوں نے سندھیکا اکیڈمی قائم کی ۔سندھی زباں کے ادب ،تحقیق، علمی اور شعوری ترقی کے شعبوں میں خدمات انجام دیں۔ سندھیکا اکیڈمی کی طرف سے تعلیمی اور علمی موضوعات پر سیکڑوں کتابیں شائع کرنے کے علاوہ ، انہوں نے قرآن مجید کے ہزاروں ترجمے اور تفسیر اور اسلامی فکر پر مشتمل کتابیں شائع کیں۔ کتابوں کے اشاعت کے ساتھ سندھ بھر میں اس کی قابل ذکر ترویج بھی کی۔ وہ کئی دعوتی کتابوں کے مصنف ہیں بشمول خواتین اسلامی انسائیکلوپیڈیا جس کے ذریعہ ملک کے تعلیم یافتہ افراد اور مسلم خاندانوں کی ایک بڑی تعداد نے اسلامی فکر سے وابستگی حاصل کی ہے۔ 2008ء میں انہوں نے قرآن حکیم کی اعلیٰ تعلیم کے لیے علماء کی روشن خیال ٹیم کے تعاون سے حکمت قرآن انسٹیٹیوٹ قائم کیا جس کی طرف سے قرآن حکیم کے الاہیاتی اور سماجی شعور پر مشتمل تین فاصلاتی کورسز کا آغاز کیا۔ اِس وقت حکمت قرآن انسٹیٹیوٹ کے طرف سے تخصص حکمت قرآن کی کلاسز بھی شروع کردی گئی ہیں۔

ممبران مشاورتی بورڈ

مولانا محمود الحسینی:

معروف عالمِ دین، محقق اور مصنف مہتمم جامعہ علوم الاسلامیہ مسجد عثمانیہ واٹر پمپ کراچی قرآنی علوم کے متبحر عالم، تعلیمات امام شاہ ولی اللہ اور اس کی جماعت کے نقیب، کئی کتابوں کے مصنف و مرتب ہیں۔ ان کی زندگی اسلامی فکر کی اشاعت و دعوت کے لیے وقف رہی ہے اور اس اسلامی فکر پر ان کی لائبریری کراچی کے تمام اہم لائبریریوں میں شمار ہوتی ہے۔

محمد صادق سومرو:

حکیم الاسلام مفتی

محمد صادق سومرو سندھ کے جید عالم جو اپنی ساری زندگی توحید کی دعوت و تبلیغ کے لیے سرگرم رہے۔ سندھ کے ہزاروں لوگ خاص طور پر پڑھے لکھے اور نوجوان اُن کی محنت اور صحبت سے اسلامی فکر سے منسلک ہیں۔ سندھ میں ان کے علمی شاگردوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ اس وقت ولیج جنھان سومرو ضلع ٹنڈو محمد خان میں اسلامی فکر کی دعوت کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مولانا محمد انس راجپر:

حکیم الاسلام پروفیسر

مولانا محمد انس راجپر سندھ کے روشن فکر علماء میں ان کا ممتاز مقام ہے اس وقت سندھ یونیورسٹی جام شورو میں تقابل ادیان کے پروفیسر ہیں۔ وہ حضرت مولانا غلام مصطفی قاسمی کے ان خاص شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں جو امام شاہ ولی اللہ اور امام انقلاب مولانا عبید اللہ سندھی کی تعلیمات اور افکار سے وابستہ ہیں۔ اپنی ساری زندگی اسی فکر سے وابستہ تحریری و تدریسی کاموں میں مشغول رکھی ہے۔ انہوں نے کئی کتابیں لکھی اور ترجمہ کی ہیں۔